تحریر: ضحیٰ بتول، جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
ایک راستہ، ایک پہچان
انسانی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گرد میں دفن نہیں ہوتے، بلکہ ہر دور میں ایک نئے پیغام کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ کا نام انہی میں سے ہے۔ کربلا کا واقعہ تقریباً 1400 سال پرانا ہے، مگر اس کی گونج آج بھی ہمارے کانوں میں ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ کربلا کوئی جنگ نہیں تھی، ایک راستے کا اعلان تھا۔ اور اس راستے کا نام ہے "حسینیت"۔
جب ہم کہتے ہیں "حسینیت ہمارا راستہ ہے" تو ہمارا مطلب صرف محرم میں کالا لباس پہننا یا نعرے لگانا نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے زندگی گزارنے کا ایک مکمل ڈھنگ، سوچنے کا ایک انداز، اور فیصلے کرنے کی ایک کسوٹی۔ یہ راستہ ہمیں بتاتا ہے کہ طاقت کے سامنے جھکنا کب گناہ بن جاتا ہے، اور جان دینا کب زندگی بن جاتا ہے۔
1. حسینیت: ظلم کے سامنے انکار کا نام
دنیا کی تاریخ ظالموں اور مظلوموں سے بھری پڑی ہے۔ فرعون بھی تھا، نمرود بھی تھا اور یزید بھی تھا۔ ان سب میں ایک بات مشترک تھی: یہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کی "ہاں میں ہاں" ملائیں۔ ان کے دربار میں سر جھکا دیں۔ ان کے کالے کو سفید کہہ دیں۔
امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں سب سے پہلا سبق یہی دیا کہ ظالم کے سامنے "نہیں" کہنا بھی عبادت ہے۔ آپ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔ یہ انکار صرف ایک شخص سے نہیں تھا، ایک سوچ سے انکار تھا۔ وہ سوچ جو کہتی ہے کہ اقتدار کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے، کرسی کے لیے اصول بیچ دینا عقلمندی ہے۔
آج کے دور میں یزید تخت پر نہیں بیٹھا، مگر یزیدیت زندہ ہے۔ جب ایک استاد بچے کا حق مارتا ہے، جب ایک تاجر ناپ تول میں کمی کرتا ہے، جب ایک افسر رشوت لے کر فائل آگے بڑھاتا ہے، جب ایک صحافی پیسے لے کر سچ چھپاتا ہے.. یہ سب چھوٹے چھوٹے یزید ہیں۔ حسینیت کا راستہ یہ ہے کہ ہم ان چھوٹے یزیدوں کے سامنے بھی "نہیں" کہیں۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ تعداد اہم نہیں ہوتی، نظریہ اہم ہوتا ہے۔ امام کے ساتھ صرف 72 لوگ تھے، مخالف لشکر میں ہزاروں۔ مگر تاریخ نے 72 کو فاتح لکھا اور ہزاروں کو رسوا۔ کیوں؟ کیونکہ 72 نے ضمیر کا سودا نہیں کیا تھا۔
2. حسینیت: عزت کی زندگی کا انتخاب
انسان کو اللہ نے دو چیزوں کا اختیار دیا ہے: عزت کی موت یا ذلت کی زندگی۔ اکثر لوگ ذلت کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ سوچتے ہیں "جان ہے تو جہان ہے"۔ مگر حسینیت کا فلسفہ الٹا ہے۔ امام نے فرمایا تھا کہ ظالم کے ساتھ جینا میرے لیے موت سے بدتر ہے۔
یہ بات صرف جنگ کے میدان کی نہیں ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ہزار بار یہ انتخاب آتا ہے۔ جب آپ سے کہا جائے کہ "بس ایک بار جھوٹ بول دو، نوکری پکی"، "بس ایک دستخط کر دو، پلاٹ مل جائے گا"، "بس آنکھیں بند کر لو، ترقی ہو جائے گی" - یہ وہی لمحہ ہوتا ہے جب فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم حسینی ہیں یا یزیدی۔
حسینیت ہمیں سکھاتی ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے، عزت کا وعدہ بھی اللہ نے کیا ہے۔ اگر رزق عزت بیچ کر ملے تو وہ رزق نہیں، آزمائش ہے۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام قیدی بن کر شام گئے۔ دربار میں یزید نے طعنہ دیا۔ امامؑ نے فرمایا: ہمیں قید سے ڈراتے ہو؟ ہمارے لیے قید، قتل، صعوبتیں اعزاز ہیں۔ یہ حسینی سوچ ہے۔
3. حسینیت: انسانیت کی معراج
کربلا صرف مسلمانوں کا واقعہ نہیں، یہ انسانیت کا واقعہ ہے۔ اسی لیے گاندھی نے کہا تھا کہ میں نے حسین سے سیکھا کہ مظلوم ہو کر بھی ظالم کو کیسے ہرایا جاتا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے کہا کہ کربلا نے مجھے جیل میں حوصلہ دیا۔
حسینیت کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں دشمن کے لیے بھی پانی بند نہیں کیا گیا۔ حر بن یزید ریاحی وہ شخص تھا جس نے امام کا راستہ روکا تھا۔ جب وہ پیاسا ہو کر امام کے پاس آیا تو امام نے پہلے اس کے گھوڑے کو پانی پلایا۔ یہ اخلاق ہے۔ جنگ کے اصول بھی ہیں۔
عاشور کی رات امام نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ لوگ صرف مجھے چاہتے ہیں، تم چلے جاؤ۔ کسی نے ساتھ نہ چھوڑا۔ یہ وفا ہے۔ عباس علمدار دریا پر پہنچے، پانی ہاتھ میں لیا، مگر پیاسے بھائی کو یاد کر کے پانی پھینک دیا۔ یہ ایثار ہے۔
علی اکبر اذان دیتے ہیں تو امام کا چہرہ کھل اٹھتا ہے۔ یہ نماز سے محبت ہے۔ چھے ماہ کا علی اصغر جب تیر سے شہید ہوتا ہے تو امام اس کا خون آسمان کی طرف اچھالتے ہیں کہ زمین پر نہ گرے، کہیں خدا یہ نہ کہے کہ تمہیں میرے فیصلے پر اعتراض ہے۔ یہ تسلیم و رضا ہے۔
پس حسینیت صرف تلوار کا نام نہیں۔ یہ وفا، ایثار، نماز، تسلیم، انسانیت، اور اخلاق کا مجموعہ ہے۔ اگر ہم جلوس نکالیں مگر پڑوسی بھوکا سوئے، اگر ہم نعرے لگائیں مگر اپنے مزدور کی تنخواہ کھا جائیں، تو ہم حسینی نہیں ہیں۔
4. حسینیت: عورت کا کردار، زینبیت کا پرتو
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کربلا صرف مردوں کی کہانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا کے بعد حسینیت کو زندہ رکھنے کا سہرا عورتوں کے سر ہے۔ جناب زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ اور شام کے بازاروں میں جو خطبے دیے، انہوں نے یزید کے تخت کو ہلا دیا۔
یزید سمجھا تھا کہ مردوں کو قتل کر دو تو بات ختم۔ مگر وہ بھول گیا کہ ایک زینب باقی ہے۔ آپ نے قید میں، زنجیروں میں، طعنوں کے ساتھ، دربار میں کھڑے ہو کر کہا: "اے یزید، تو جتنا چاہے مکر کر لے، ہماری یاد کو نہیں مٹا سکتا"۔ اور واقعی، آج یزید کا نام کوئی نہیں لیتا، زینب کا خطبہ بچے بچے کو یاد ہے۔
یہ حسینیت کا دوسرا رخ ہے۔ حسینیت ہمیں سکھاتی ہے کہ عورت صرف گھر کی چاردیواری نہیں، وہ معاشرے کی محافظ بھی ہے۔ اس کی زبان میں طاقت ہے، اس کے صبر میں پیغام ہے، اس کے پردے میں عزت ہے۔ آج کی بیٹی جب فیشن کے نام پر حیا بیچ دیتی ہے، جب ٹک ٹاک پر اپنی عزت نیلام کرتی ہے، تو وہ زینبی راستے سے ہٹ جاتی ہے۔
حسینیت کا راستہ یہ ہے کہ ہماری عورتیں تعلیم بھی حاصل کریں، نوکری بھی کریں، مگر اپنی شناخت نہ بھولیں۔ زینب بن کر جئیں، نہ کہ یزید کے دربار کی باندی بن کر۔
5. حسینیت: اتحاد کا پیغام
کربلا کے شہداء کی فہرست دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ ان میں عرب بھی تھے، عجمی بھی۔ گورے بھی تھے، کالے بھی۔ حبیب بن مظاہر 75 سال کے تھے، قاسم 13 سال کے۔ امام کا غلام جون حبشی تھا، عیسائی سے مسلمان ہونے والا وہب کلبی بھی تھا۔
یہ کیا پیغام تھا؟ یہ پیغام تھا کہ ظلم کے خلاف لڑائی میں رنگ، نسل، زبان، عمر نہیں دیکھی جاتی۔ حق کا جھنڈا اٹھانے والا ہر شخص حسینی ہے۔
آج ہم نے کیا؟ ہم نے شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، پنجابی پٹھان، سندھی بلوچ کے نام پر لکیریں کھینچ لیں۔ ہم بھول گئے کہ کربلا میں حسین کے ساتھ جانے والوں نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ تمہارا مسلک کیا ہے۔ انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ تم حق پر ہو یا باطل پر۔
حسینیت کا راستہ ہمیں جوڑتا ہے، توڑتا نہیں۔ اگر آپ کی مجلس میں کوئی سنی بھائی آ کر بیٹھ جائے تو اسے خوش آمدید کہو۔ اگر آپ کے محلے میں کوئی ہندو پیاسا ہے تو اسے پانی پلاؤ۔ کیونکہ حسین نے دشمن کو بھی پانی پلایا تھا۔ یہ ہے اصل حسینیت۔
6. حسینیت: قربانی کا جذبہ
قربانی کا مطلب صرف جان دینا نہیں ہوتا۔ وقت کی قربانی، خواہش کی قربانی، انا کی قربانی، مال کی قربانی - یہ سب حسینیت ہے۔
امام نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ جوان بیٹے، شیر خوار بچہ، بھائی، بھتیجے، دوست۔ خیموں میں آگ لگ گئی۔ مگر زبان پر شکوہ نہیں آیا۔ کیوں؟ کیونکہ نظر ایک بڑے مقصد پر تھی۔ وہ مقصد تھا: "امت کی اصلاح"۔
ہم سے کربلا جیسی قربانی نہیں مانگی جا رہی۔ ہم سے صرف اتنا کہا جا رہا ہے کہ جھوٹ کے بدلے سچ بولو، حرام کے بدلے حلال کماؤ، غیبت کے بدلے خاموشی اختیار کرو، گالی کے بدلے دعا دو۔ کیا یہ مشکل ہے؟
ایک باپ جو اپنی نیند قربان کر کے بچوں کو رزقِ حلال کھلاتا ہے، وہ حسینی ہے۔ ایک بیٹا جو ماں باپ کے آگے "اف" نہیں کرتا، وہ حسینی ہے۔ ایک طالبعلم جو نقل سے انکار کر کے فیل ہو جاتا ہے، وہ حسینی ہے۔ ایک دکاندار جو موقع ہونے کے باوجود ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا، وہ حسینی ہے۔
7. حسینیت: علم اور شعور کا نام
یزید کے لوگ بھی "اللہ اکبر" کہہ کر امام کو شہید کر رہے تھے۔ ان کے پاس بھی قرآن تھا، نماز تھی۔ پھر فرق کیا تھا؟ فرق شعور کا تھا۔ وہ اندھی تقلید کے شکار تھے۔ انہوں نے سوچنا بند کر دیا تھا۔
حسینیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین لکیر کا فقیر بننے کا نام نہیں۔ سوال کرو، پڑھو، سمجھو۔ امام نے ہمیشہ دلیل سے بات کی۔ خطبے دیے، خط لکھے، سمجھایا۔ تلوار سب سے آخر میں اٹھائی۔
آج ہماری مجالس میں رونا تو بہت ہے، مگر سمجھنا کم ہے۔ ہم "ہائے حسین" تو کہتے ہیں، مگر "کیوں حسین" نہیں پوچھتے۔ حسینیت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف روایات نہ سنائیں، انہیں کربلا کا فلسفہ سمجھائیں۔ انہیں بتائیں کہ حسین نے یزید کی بیعت کیوں نہیں کی، تاکہ کل جب ان کے سامنے کوئی "جدید یزید" آئے تو وہ پہچان سکیں۔
8. حسینیت: امید کا چراغ
کربلا کا سب سے بڑا سبق "امید" ہے۔ ظاہری حالات دیکھیں تو سب ختم ہو گیا تھا۔ امام شہید، بچے یتیم، خیمے جلے ہوئے، عورتیں قیدی۔ مگر جناب زینب نے کہا: "مَا رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا" - میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
یہ کیسی نظر ہے جو کٹے ہوئے لاشوں میں بھی جمال دیکھتی ہے؟ یہ حسینی نظر ہے۔ یہ نظر جانتی ہے کہ رات کتنی ہی تاریک ہو، صبح ضرور آتی ہے۔ ظلم کتنا ہی بڑھ جائے، ایک دن مٹ جاتا ہے۔
آج ہم مایوسی کا شکار ہیں۔ کہتے ہیں "اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا"، "ہر طرف کرپشن ہے"، "سچ کی کوئی قیمت نہیں"۔ حسینیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ کہتی ہے: اگر 72 لوگ ہزاروں کے نظام کو ہلا سکتے ہیں، تو تم کیوں نہیں؟ اگر ایک زینب پورے دربار کو خاموش کرا سکتی ہے، تو تمہاری آواز کیوں دب گئی؟
حرفِ آخر: ہمارا عہد
"حسینیت ہمارا راستہ ہے" - یہ نعرہ نہیں، ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب ہے:
1. ہم جھوٹ نہیں بولیں گے، چاہے نقصان ہو جائے۔
2. ہم رشوت نہیں لیں گے، چاہے ترقی رک جائے۔
3. ہم کمزور کا ساتھ دیں گے، چاہے طاقتور ناراض ہو جائے۔
4. ہم نماز نہیں چھوڑیں گے، چاہے تیر برس رہے ہوں۔
5. ہم اپنی بچیوں کو زینب بنائیں گے، نہ کہ بازار کی زینت۔
6. ہم فرقوں میں نہیں بٹیں گے، کیونکہ حسین سب کا ہے۔
7. ہم مایوس نہیں ہوں گے، کیونکہ کربلا کے بعد بھی صبح ہوئی تھی۔
یاد رکھیں، یزید مر گیا، مگر یزیدیت ہر دور میں شکل بدل کر آتی ہے۔ کبھی کرپشن کی شکل میں، کبھی جھوٹے میڈیا کی شکل میں، کبھی بے حیائی کی شکل میں، کبھی فرقہ واریت کی شکل میں۔ ہمیں ہر دور میں حسین بننا ہے۔
امام مہدی علیہ السلام جب ظہور فرمائیں گے تو وہ بھی نعرہ "یا لثارات الحسین" بلند کریں گے۔ یعنی حسین کا انتقام۔ وہ انتقام تلوار سے نہیں، عدل سے لیں گے۔ وہ دنیا کو حسینیت کے رنگ میں رنگ دیں گے۔
تب تک ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے گھر، اپنے محلے، اپنے شہر میں چھوٹے چھوٹے حسین بنیں۔ اپنے کردار سے ثابت کریں کہ واقعی "حسینیت ہمارا راستہ ہے"۔
کیونکہ راستے تبھی منزل تک پہنچاتے ہیں جب ان پر چلا جائے۔ صرف نعرے لگانے سے منزلیں نہیں ملا کرتیں۔









آپ کا تبصرہ